May 2007


آج بھی یاد ہر اک بات تیری آتی ہے
انہی یادوں سے پیچھا چھڑانے کے لئے
اپنے بے رنگ خیالوں کو ہٹانے کے لئے
ایک تصویر تصور میں بنا ڈالی ہے
اسی تصویر کو کاغذ پہ سجانے کے لئے
زندگی سے میں کئی رنگ چرا لایا ہوں
سرو قامت کہ پیکر کے استعارے کو
بہار کی وہ رعنائی اداؤں کے لئے
پلکوں کے جھروکوں سے تکنے کے لئے
دو معصوم سی بے چین غزالی آنکھیں
کلام کرتے بے تاب سے ہونٹوں کے لئے
سرخ گلاب میں ڈالی سے توڑ لایا ہوں
اس کے چہرے کو حسیں اور بنانے کے لئے
مانگ کے چاند سے بےداغ نور لایا ہوں
پیارے شانوں پہ بکھری ہوئی ذلفوں کے لئے
سیاہ رات کا سب رنگ نچوڑ لایا ہوں
ہاتھ چلتے رہے تصویر بھی بنتی ہی رہی
میں نے چاہا تو نہ تھا مگر انجانے میں
تیری تصویر پھر اک بار بنا ڈالی ہے

کھو نہ جانا ” سے “

– fromKho na JanaCopyrights Reserved

میری جان تجھ کو چاہا ہے میں نے
دل اور نظر سب کی گہرائیوں سے
میں پاگل نہیں تھا میں عاشق نہیں تھا
مگر تجھ کو پوجا ہے سچائیوں سے

دور جانا بھی چاہوں تو تقدیر بن کر
وفا تیری مجھ کو بلاتی رہے گی
“تمھاری ہوں میں صرف تمھاری رہوں گی ”
آواز پل پل یہ آتی رہے گی

 

کھو نہ جانا ” سے “

– fromKho na JanaCopyrights Reserved

مجھے گماں نہ تھا اچانک یونہی چلتے چلتے
کسی راہ پر اک دن یوں مِل جائے گی
وہ ایسی حسیں ذات جسے سوچا میں نے
میرے بکھرے سے خیالات کئے یکجا جس نے
میرا وجود جس کے بنا ادھورا تھا
ہاں وہ تم ھو، تمہی ھو، تمہی تو ھو
وہ چند لمحے تری قربت میں جو گزار سکا
وہ لمحے آج میری زندگی کا حاصل ہیں
میری محبت کا حاصل وہ رتجگے بھی ہیں
جوتیرے انتظار میں گزرے کے شاید
تجھے خیال ھو میری بے قراری کا
تیری آنکھوں میں تو سپنے تھے اک حسیں کل کے
میں نے بھی خواب سجائے تھے اسی منزل کے
تو نے ساتھ نبھانے کی جو قسمیں کھائیں
آج بھی مجھ کو یقیں کیوں ہے کہ وہ سچی تھیں
تیرے خوابوں کو تعبیر کروں گا اک دن
تیری وفا سے میرے عشق کا یہ وعدہ تھا
پھر اچانک تو مجھے چھوڑ کر چلی ہی گئی
تجھے شاید میرے وعدوں پہ اعتبار نہ تھا
میں تو دن رات تڑپتا تھا تیری یادوں میں
میرے لئے یوں تیرا دل کیوں بے قرار نہ تھا
اب بھی سوچتا ہوں میں کبھی تنہائی میں
حادثہ تھا وہ حسیں شاید، مگر وہ پیار نہ تھا
میرے دماغ میرے دل کے کئی گوشوں میں
تیری یادوں کا حسیں تاج محل آج بھی ہے
میں جانتا ہوں کے تو آئیگی نہیں پھر بھی
قدم قدم میں تیرا انتظار کرتا ہوں
کہ شاید۔۔۔
اچانک۔۔۔۔۔۔۔
یونہی چلتے چلتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کھو نہ جانا ” سے “

– fromKho na JanaCopyrights Reserved

“There are two kinds of people; those who do the work and those who take the credit. Try to be in the first group; there is less competition there.”

– Indira Gandhi

“My idea is that every specific body strives to become master over all space and to extend its force and to thrust back all that resists its extension. But it continually encounters similar efforts on the part of other bodies and ends by coming to an arrangement with those of them that are sufficiently related to it: thus they then conspire together for power. And the process goes on.”

– Friedrich Nietzsche

ھاتھوں کی لکیروں میں، مَیں کل ڈھونڈ رہا ہوں
اندھیروں میں اجالے کی کرن ڈھونڈ رہا ہوں

اس دور میں عادت نہیں بڑھنے کی خودی پہ
اڑنے کو کسی اور کے پَر ڈھونڈ رہا ہوں

میرے افکار کی تہذیب یے محبت سے عبارت
تجھے پا کر بھی تجھ کو کہیں ڈھونڈ رہا ہوں

جینے کی تو خواہش ہے نہ مرنے کی تمنا
کس آس پہ جیون میں اُمنگ ڈھونڈ رہا ہوں

سمندر میں کہ صحرا میں ، ہوں میں تو سفر میں
شام ہونے کو ہے آئی مَیں گھر ڈھونڈ رہا ہوں

 

کھو نہ جانا ” سے “

– fromKho na JanaCopyrights Reserved

The significance of man is not in what he attains, but rather in what he longs to attain.
There is a space between man’s imagination and man’s attainment that may only be traversed by his longing.
My house says to me, “Do not leave me, for here dwells your past.”
And the road says to me, “Come and follow me, for I am your future.”
And I say to both my house and the road, “I have no past, nor have I a future. If I stay here, there is a going in my staying; and if I go there is a staying in my going. Only love and death will change all things.”

– Khalil Gibran

Next Page »