ان ماؤں کے نام
جن کے لعلوں نے جانوں سے کی ہے رقم
اپنی تہذیب اور تاریخِ وطن
اپنے امروز و فردا کی نہ کی فکر
اس کو رنگیں کیا دے کے خونِ جگر
ان ماؤں کے نام

ان ماؤں کے نام
جن کے بیٹوں نےرکھے رواں قافلے
بیٹیاں جن کی ہاری نہیں حوصلے
وہ مسیحا بھی، دھقاں بھی، مزدور بھی
ہیں جن کی بدولت حسیں صبح و شام
ان ماؤں کے نام

ان ماؤں کے نام
جن کے بیٹے ملے جا کے اغیار سے
چھید کرتے رہے اپنی دیوار میں
آشیاں تھا بنا جس کسی شاخ پہ
کاٹ ڈالی وہ خود اپنے ہتھیار سے
ان ماؤں کے نام

ان ماؤں کے نام
جو کل کی ھمارے ذمہ دار ھیں
اپنی نسلوں کی مرشد و معمار ہیں
نونہالوں کو سچ کا سبق تو سکھا
اپنے بچوں کو انساں کی قیمت بتا

یہ دنیا خوبصورت ہے“ سے ”

– from ” Yeh Dunya Khubsoorat HaiCopyrights Reserved

Advertisements