ھاتھوں کی لکیروں میں، مَیں کل ڈھونڈ رہا ہوں
اندھیروں میں اجالے کی کرن ڈھونڈ رہا ہوں

اس دور میں عادت نہیں بڑھنے کی خودی پہ
اڑنے کو کسی اور کے پَر ڈھونڈ رہا ہوں

میرے افکار کی تہذیب یے محبت سے عبارت
تجھے پا کر بھی تجھ کو کہیں ڈھونڈ رہا ہوں

جینے کی تو خواہش ہے نہ مرنے کی تمنا
کس آس پہ جیون میں اُمنگ ڈھونڈ رہا ہوں

سمندر میں کہ صحرا میں ، ہوں میں تو سفر میں
شام ہونے کو ہے آئی مَیں گھر ڈھونڈ رہا ہوں

 

کھو نہ جانا ” سے “

– fromKho na JanaCopyrights Reserved

Advertisements