مجھے گماں نہ تھا اچانک یونہی چلتے چلتے
کسی راہ پر اک دن یوں مِل جائے گی
وہ ایسی حسیں ذات جسے سوچا میں نے
میرے بکھرے سے خیالات کئے یکجا جس نے
میرا وجود جس کے بنا ادھورا تھا
ہاں وہ تم ھو، تمہی ھو، تمہی تو ھو
وہ چند لمحے تری قربت میں جو گزار سکا
وہ لمحے آج میری زندگی کا حاصل ہیں
میری محبت کا حاصل وہ رتجگے بھی ہیں
جوتیرے انتظار میں گزرے کے شاید
تجھے خیال ھو میری بے قراری کا
تیری آنکھوں میں تو سپنے تھے اک حسیں کل کے
میں نے بھی خواب سجائے تھے اسی منزل کے
تو نے ساتھ نبھانے کی جو قسمیں کھائیں
آج بھی مجھ کو یقیں کیوں ہے کہ وہ سچی تھیں
تیرے خوابوں کو تعبیر کروں گا اک دن
تیری وفا سے میرے عشق کا یہ وعدہ تھا
پھر اچانک تو مجھے چھوڑ کر چلی ہی گئی
تجھے شاید میرے وعدوں پہ اعتبار نہ تھا
میں تو دن رات تڑپتا تھا تیری یادوں میں
میرے لئے یوں تیرا دل کیوں بے قرار نہ تھا
اب بھی سوچتا ہوں میں کبھی تنہائی میں
حادثہ تھا وہ حسیں شاید، مگر وہ پیار نہ تھا
میرے دماغ میرے دل کے کئی گوشوں میں
تیری یادوں کا حسیں تاج محل آج بھی ہے
میں جانتا ہوں کے تو آئیگی نہیں پھر بھی
قدم قدم میں تیرا انتظار کرتا ہوں
کہ شاید۔۔۔
اچانک۔۔۔۔۔۔۔
یونہی چلتے چلتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کھو نہ جانا ” سے “

– fromKho na JanaCopyrights Reserved

Advertisements