بہتر ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
جینا وہ کیاجو ہو نفسِ غیر پر مدار
شہرت کی زندگی کا بھروسہ بھی چھوڑ دے

ہے عاشقی میں رسم الگ سب سے بیٹھنا
بت خانہ بھی حرم بھی کلیسا بھی چھوڑ دے
سوداگری نہیں، یہ عبادت خدا کی ہے
اے بے خبر، جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے

علامہ محمد اقبال

 

– Allama Mohammad Iqbal

Advertisements