افق کے پار جانا ہے
حسیں ان وادیوں میں جا کے
سب کچھ بھول جانا ہے
افق کے پار جانا ہے

سنا ہے آج بھی چڑیاں وہاں پر چہچہاتی ہیں
ندی بھی بن کسی آواز کے یوں بہتی جاتی ہے
انہی چپ سی فضاؤں میں
ذرا سا گنگنانا ہے
افق کے پار جانا ہے

سنا ہے آج بھی پریاں وہاں پر پائی جاتی ہیں
کسی بھی اجنبی کو دیکھ کر وہ کھو سی جاتی ہیں
انہی پریوں کی شہزادی کو سوتے سے جگانا ہے
افق کے پار جانا ہے

وہاں جا کر ہمیں اپنی نئی دنیا بسانی ہے
وہ لمحوں کی مکمل داستاں خود کو سنانی ہے
نہ تجھ کو یاد کرنا ہے نہ تجھ کو یاد آنا ہے
مگر تنہائی میںخود کو
ہنستے میں رلانا یے
افق کے پار جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کھو نہ جانا ” سے “

– fromKho na JanaCopyrights Reserved

Advertisements