ماں جی ، آپ کو ایک لڑکی سے ملوانا ہے“
“کیا!!، کون ہے ؟، خاندان کیسا ہے؟، لوگ کیسے ہیں؟“
“ وہ میری آفس بلڈنگ ہی میں کام کرتی ہے- مڈل کلاس فیملی ہے“
“علی!!‘ تم اپنے سے نیچے لوگوں میں کیوں ریتے ہو۔۔۔اچھا ذات کیا ہے اس کی؟ کس فرقہ کی ہے؟“
“ وہ ماں جی، ذات کا تو نہیں پتہ لیکن وہ فرقہ ہم سے مختلف ہے۔۔۔ لیکن کیا فرق پڑتا ہے مسلمان ہے یہ کافی ہے“
“ پاگل ہو گئے ہو!!!، ہم ذات برادری اور مذہب پر یقین رکھتے ہیں – ہم پیروں کے خاندان سے ہٰیں ہم وہاں تمھاری شادی نہیں کر سکتے- بھول جاؤ“
“ بابا، آپ ہی ماں کو سمجھایئے نہ“
“ بیٹا سکینہ جو کہہ رہی ہے صحیح یے – ھم خاندانی لوگ ہیں – ویسے بھی تم نے آگے پڑھنا ہے ابھی ، امریکہ جانہ ہے- اس کی تیاری کرو“

پانچ سال بعد

سکینہ ، سنا یے علی آ رھا ہے؟“
“ ہاں ، میرا بیٹا پہلی مرتبہ اپنی بیوی کے ساتھ آ رہا ہے“
“ ارے تم نے بتایا ہی نہیں، تم نے اپنے رشتہ داروں میں کی بے؟“
“ نہیں وہ علی کی کلاس میں پڑھتی تھی وھاں“
“ ھاں میں نے سنا ہے آج کل وھاں کافی پاکستانی مسلمان خاندان رہتے ہیں“
“ نہیں وہ پاکستانی نہیں “
“ چلو کیا فرق پڑتا ہے – مسلمان کسی بھی ملک کے ہوں ایک ہیں “
“ نہیں وہ مسلمان نہیں لیکن سچ بتاؤں میں خوش ہوں اس نے گوری سے کر لی – بہت کھلے ذہن کی ہے، ہمارے مذیب اور تہذیب کی بہت عزت کرتی ہے

 

Advertisements