Paris, je t’aime !

شہر روشنی کا یہ عالم کا مرکز
جادو بلا کا ہر چیز میں ہے
ہر سو ہوا میں خوشبو ہے پھیلی
جسے دیکھو مدہوش یہاں ہو رہا ہے

یہ چہرے دمکتے ہوئے ہر طرف
یہ چاہت کا رنگیں حسیں شور ہے
کھنکھناتی ہوئی ہنسی ہیں کہیں
پر سپنوں میں ان کے کوئی اور ہے

یہ دریا کنارہ،  یہ بانہوں میں بانہیں
یہ وعدے  یہ قسمیں  یہ رنگیں فسانے
یہ لڑنا جھگڑنا، روٹھنا  یہ منانا
آنسو بہا کر ذرا مسکرانا

کہانی سناتے ہیں اینٹ اور پتھر
ماضی عیاں سب لوگوں پہ کرتے
تاریخ میں بس ہی جائیں گے یہ بھی
کسی کو بہت یاد آئیں گے یہ بھی

یہ دنیا خوبصورت ہے“ سے ”


The city of lights, it is the center of the world
everything casts a spell here
fragrance spread in the air
every one is mesmerized by it

Glowing faces in every side
colorful noise of love
laughters are heard everywhere
though in dreams there is someone else

River (Seine) bank, arms in arms
promises, vows, colorful tales
quarrels, complains, anger and reconciliation
shedding tears and then smiles

Every stone and brick tells a tale
uncovering the past to the people
who themselves will become part of it
and someone will remember them the same way

– fromYeh Dunya Khubsoorat HaiCopyrights Reserved