وہ ایک لمحہ عذاب کا تھا
وہ موسمِ گُل اضطراب کا تھا
کہیں پہ انجان وسعتیں  تھیں
کہیں پہ جاں بخش تھیں فصیلیں
اسی تضادِ رنگ و بوُ میں
فیصلے کی گھڑی تھی پہنچی
وفا پرست تھے جو زندگی کے
ساحلوں پہ کھڑے رہے تھے
عشق تھا پر جن کا رستہ
سمندروں میں اتر گئے تھے

یہ دنیا خوبصورت ہے“ سے “

Translation

That was the moment of anguish
That was the moment of restlessness
There were unknown horizons and
life-giving boundaries
With these contrasts of colors and scents
the moment of decision had come
Those loyal to the life
stayed at the shores
Those who were seekers of love
walked into the ocean

From Yeh Dunya Khubsoorat Hai”

This nice picture lead to this poem

Advertisements