June 2009


اپنی سفاکیت پہ ناز تمہیں
ہم نے ہتھیار کب اٹھائے ہیں
تم تو دشمن ہو گھاؤ کیا دو گے
ہم نے اپنوں سے زخم کھائے ہیں

کھو نہ جانا“ سے “

Translation

You are proud of your cruelty
Yet I have not even taken my arms
You are just an enemy, can not hurt anymore
I have been stabbed by my friends

from ” Kho na JanaCopyrights Reserved

میرے وطن تجھے چاہا ہے عمر بھر میں نے
میرے وطن تچھے چاہوں گا عمر بھر یونہی
لمبی تاریک اس رات کے بعد
صبح پھر سے یہاں پہ آئے گی
تیرے سورج کی گرم کرنوں سے
زندگی پھر سے لہلہائے گی
تیرے بیٹے، جوان اور مزدور
تیری عظمت کے گیت گائیں گے
تیرے آنگن میں چاند اترے گا
ہر ڈگر پر وہ روشنی ہو گی
جس میں معصوم خواب بنتے ہیں
جس میں مجبور خوشیاں چنتے ہیں
انہی خوابوں سے امید بہار ہم کو ہے
ان کی تعبیر کا اب انتظار ہم کو ہے