میرے وطن تجھے چاہا ہے عمر بھر میں نے
میرے وطن تچھے چاہوں گا عمر بھر یونہی
لمبی تاریک اس رات کے بعد
صبح پھر سے یہاں پہ آئے گی
تیرے سورج کی گرم کرنوں سے
زندگی پھر سے لہلہائے گی
تیرے بیٹے، جوان اور مزدور
تیری عظمت کے گیت گائیں گے
تیرے آنگن میں چاند اترے گا
ہر ڈگر پر وہ روشنی ہو گی
جس میں معصوم خواب بنتے ہیں
جس میں مجبور خوشیاں چنتے ہیں
انہی خوابوں سے امید بہار ہم کو ہے
ان کی تعبیر کا اب انتظار ہم کو ہے

Advertisements